ٹیکنالوجی

ٹوئٹر انتظامیہ ایلون مسک کے خلاف عدالت پہنچ گئی

[ad_1]

ٹوئٹر انتظامیہ ایلون مسک کے خلاف عدالت پہنچ گئی

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے تو ٹوئٹر انتظامیہ کی طرف سے مقدمہ درج کرانے کی دھمکی مذاق میں اڑا دی تھی تاہم ٹوئٹر انتظامیہ نے دھمکی پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ ڈی ڈبلیو ڈاٹ کام کے مطابق دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر پرہی ایک ٹویٹ کے ذریعے ٹوئٹر کو 44ارب ڈالر میں خریدنے کی پیشکش کی جسے ٹوئٹر انتظامیہ کی طرف سے ٹھکرا دیا گیا تاہم بعد ازاں انتظامیہ رضامند ہو گئی اور ایلون مسک کے ساتھ ٹوئٹر کی خریداری کا معاہدہ کر لیا۔

ایلون مسک کی طرف سے گزشتہ جمعہ کے روز اس معاہدے کو یہ کہتے ہوئے ختم کر دیا گیا کہ ٹوئٹرانتظامیہ نے پلیٹ فارم کے انضمام سے متعلق معاہدے کی کئی شقوں کی خلاف ورزی کی ہے اور ٹوئٹر پر موجود جعلی اکاﺅنٹس کے متعلق حقیقی معلومات نہیں دیں۔ ایلون مسک کی طرف سے معاہدہ توڑے جانے پر ٹوئٹر کے چیئرمین بریٹ ٹیلر نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ وہ ایلون مسک کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

دی نیوز کے مطابق بریٹ ٹیلر کی یہ دھمکی ایلون مسک نے مذاق میں اڑا دی تھی۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں اپنی چار تصاویر پوسٹ کیں، جن میں وہ بے اختیار ہنس رہے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر تصویر پر ایک فقرہ لکھا ہوتا ہے۔ پہلی تصویر پر لکھا ہوتا ہے کہ ”وہ کہتے تھے کہ میں ٹوئٹر نہیں خرید سکتا۔“ دوسری تصویر پر لکھا ہوتا ہے کہ ”پھر انہوں نے کہا کہ وہ ’باٹس‘ (خودکار طریقے سے چلنے والے جعلی ٹوئٹر اکاﺅنٹس)کی معلومات نہیں دیں گے۔“ تیسری تصویر پر لکھا تھا کہ ”اب وہ کہتے ہیں کہ وہ عدالت کے ذریعے مجھے ٹوئٹر خریدنے پر مجبور کریں گے۔“ اور چوتھی تصویر پر لکھا ہوتا ہے کہ ”اب وہ کہتے ہیں کہ وہ عدالت میں باٹس کی معلومات مہیا کریں گے۔“

بہرحال ٹوئٹر انتظامیہ کی طرف سے اپنی دھمکی پر عملدرآمد کرتے ہوئے امریکہ کی ڈیلاویئر کورٹ آف چانسری میں ایلون مسک کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں ٹوئٹر انتظامیہ نے استدعا کی ہے کہ ایلون مسک نے 54.20ڈالر فی حصص کے حساب سے ٹوئٹر کو خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، عدالت انہیں اس معاہدے کو پورا کرنے پر مجبور کرے۔ ٹوئٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایلون مسک نے پہلے کھلے عام ٹوئٹر کی خریداری کا تماشا کیا اور پھر کمپنی کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی



[ad_2]
Source link

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button