ٹیکنالوجی

 ٹوئٹر بوٹس ہوتے کیا ہیں اور کس طریقے سے کام کرتے ہیں؟

[ad_1]

 ٹوئٹر بوٹس ہوتے کیا ہیں اور کس طریقے سے کام کرتے ہیں؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی سیاست میں ان دنوں ’ٹوئٹر بوٹس‘ (مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے ذریعے خودکار طریقے سے چلنے والے ’روبوٹک‘ ٹوئٹر اکاﺅنٹس)کا بہت تذکرہ ہے۔ تحریک انصاف کی سوشل میڈیا پر مقبولیت کے متعلق متحدہ اپوزیشن کی حکومت کا کہنا ہے کہ زمینی حقیقت کی طرح سوشل میڈیا پر بھی تحریک انصاف اور عمران خان کی مقبولیت ختم ہو چکی ہے اور وہ ’ٹوئٹر بوٹس‘ کے ذریعے سوشل میڈیا کے میدان میں اپنی برتری دکھا رہے ہیں۔ حکومت کا یہ دعویٰ کس قدر درست ہے، اس سے قطع نظر، پاکستانیوں کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر یہ ٹوئٹر بوٹس ہوتے کیا ہیں اور کس طریقے سے کام کرتے ہیں۔ 

وکی پیڈیا کے ایک آرٹیکل کے مطابق جس طرح ابتداءمیں بتایا جا چکا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کے روبوٹک سافٹ ویئر ہوتے ہیں جو ’ٹوئٹر اے پی آئی‘ کے ذریعے کسی بھی ٹوئٹر اکاﺅنٹ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان سافٹ ویئرز کو جس طرح ’کوڈ‘ کیا گیا ہوتا ہے اور جو کمانڈز دی گئی ہوتی ہیں، یہ اسی طریقے سے اس ٹوئٹر اکاﺅنٹ کو خود کار طریقے سے چلاتے ہیں۔ یہ روبوٹک سافٹ ویئرز ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے ٹویٹس اور ری ٹویٹس کر سکتے ہیں، ٹویٹس کو لائیک کر سکتے ہیں، لوگوں کو فالو اور ان فالو کر سکتے ہیں، ڈائریکٹ میسجز بھیج سکتے ہیں، غرض ٹوئٹر پر ہونے والی کوئی بھی سرگرمی ان روبوٹک سافٹ ویئرز کے ذریعے خودکار طریقے سے سرانجام دی جا سکتی ہے۔

ہر چیز کی طرح ان سافٹ ویئرز کے کچھ مثبت استعمالات ہیں اور کچھ منفی بھی ہیں۔ مثبت استعمالات میں کمپنیاں انہیں اپنے صارفین کو خودکار طریقے سے ٹوئٹر پر ڈائریکٹ میسجز کے جواب دینے اور دیگر ایسے کاموں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ انہیں خودکار طریقے سے دلچسپ اور تخلیقی مواد تیار کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں تک ان کے منفی استعمالات کا تعلق ہیں تو ان کے ذریعے افراد، گروپس اور پارٹیوں کے خلاف پراپیگنڈے کا کام بہت آسان ہو جاتا ہے۔ بالخصوص سیاست کے میدان میں پارٹیاں انہیں اپنے مخالف سیاستدانوں اور پارٹیوں کو زیر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کے ذریعے انتخابی مہم اور انتخابی نتائج پر بھی اثرانداز ہوا جا سکتا ہے۔

کوئی سیاستدان سوشل میڈیا پر زیادہ مقبول نہیں ہے مگر ان روبوٹک سافٹ ویئرز کے ذریعے اس کے اکاﺅنٹ سے کی جانے والی ٹویٹس کو منٹوں میں ہزاروں ری ٹویٹس اور لائیکس دے کر مصنوعی طریقے سے اسے مقبول ترین لیڈر ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئی صارف کس طرح اندازہ کر سکتا ہے کہ کون سا اکاﺅنٹ روبوٹک سافٹ ویئر کے ذریعے چلایا جا رہا ہے اور کس سیاستدان یا شخصیت کے اکاﺅنٹ کو ایسے سافٹ ویئرز کے ذریعے مقبول بنایا جا رہا ہے؟

ایسے اکاﺅنٹس کی شناخت کے لیے ان کے روئیے پر غور کرنا پڑتا ہے۔ جن ٹوئٹر اکاﺅنٹس کو روبوٹک سافٹ ویئرز کے ذریعے چلایا جا رہا ہو، ان سے ٹویٹس یا دیگر افعال مخصوص وقفوں سے سرانجام ہوتے ہیں، مثال کے طور پر ایسے اکاﺅنٹس سے ٹویٹس ہر30منٹ یا 60منٹ بعد ہو رہی ہوتی ہیں۔اس کے برعکس جو ٹوئٹر اکاﺅنٹ انسان چلا رہے ہوں، ان میں یہ باقاعدگی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اسی طرح روبوٹک اکاﺅنٹ کے دوسرے اکاﺅنٹس کو ری ٹویٹ اور لائیک کرنے کے پیٹرن بھی مختلف ہوتے ہیں، جن پر اگر غور کیا جائے تو ان کے روبوٹک ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اب آتے ہیں ایسے اکاﺅنٹ کی طرف جسے ایسے روبوٹک اکاﺅنٹس کے ذریعے مصنوعی طریقے سے مقبول بنایا جا رہا ہو۔ ایسے اکاﺅنٹ سے کی جانے والی ٹویٹس پر ری ٹویٹس، لائیکس اور جوابی ٹویٹس کی شرح غیرمتوازن ہوتی ہے۔ عام اکاﺅنٹس پر لائیکس کی تعداد ری ٹویٹس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے تاہم ایسے اکاﺅنٹس پر ری ٹویٹس اور لائیکس کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہوتا جبکہ ایسے اکاﺅنٹس پر جوابی ٹویٹس کی تعداد بہت کم ہوتی ہے کیونکہ روبوٹک سافٹ ویئرز کو جوابی ٹویٹس کے لیے بہت کم استعمال کیا جاتا ہے۔ایسے سافٹ ویئرز زیادہ تر ری ٹویٹس اور لائیکس وغیرہ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی



[ad_2]
Source link

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button