ٹیکنالوجی

پاکستان میں سفارتی کیبل پر ہنگامہ لیکن آج بھی سفارتکار پیغام رسانی کے لیے کیبلز کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟ آپ بھی جانیے

[ad_1]

پاکستان میں سفارتی کیبل پر ہنگامہ لیکن آج بھی سفارتکار پیغام رسانی کے لیے …

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) وکی لیکس کی طرف سے امریکی محکمہ خارجہ کی اڑھائی لاکھ سے زائد سفارتی کیبلز جاری کی گئی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ امریکا کا سفارت کاری کا میکانزم کیسا ہے۔ ان اڑھائی لاکھ کیبلز سے ترکی کی خارجہ پالیسی پر امریکہ کے موقف سے امریکی اور چینی سفارت کاروں کی شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والی گفتگو اور اقوام متحدہ سے انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کے متعلق دی گئی ہدایات سمیت کئی چیز منظرعام پر آئیں۔

ان معلومات کے افشاءہونے سے جہاں دیگر کئی سوالات اٹھے، وہیں ایک سوال یہ بھی لوگوں کے ذہنوں میں آیا کہ آج کمیونی کیشن کے انتہائی جدید ذرائع ہونے کے باوجود امریکی سفارتکار کیبلز بھیجنے کے لیے وہی پرانا طریقہ کیوں استعمال کر رہے ہیں؟بین الاقوامی جریدے فارن پالیسی کے مطابق امریکی سفارت کاروں کی طرف سے پرانا طریقہ استعمال کرنے کی کئی وجوہات ہیں۔

جریدے کے مطابق ان وجوہات میں اس گفتگو کا ریکارڈ رکھنا، اسے خفیہ رکھنا اور کیریئر ایڈوانسمنٹ وغیرہ شامل ہیں۔ یقینا امریکہ محکمہ خارجہ کی ’کیبلز‘ اب کیبل کے ذریعے ارسال نہیں کی جاتیں۔ یہ 1970ءکی دہائی کے اوائل سے الیکٹرانک ذرائع سے بھیجی جا رہی ہیں تاہم ان کا فارمیٹ اور پروٹوکول کم و بیش آج بھی وہی ہے جو سرد جنگ کے زمانے میں تھا۔ 

رپورٹ کے مطابق خفیہ سفارتی گفت و شنید کا تصور یورپ کے احیاءکے دوران جدید سفارت کاری کی ابتداءسے ہی وجود میں آیا۔ اس وقت سفیر اپنے ممالک کو معلومات سر بمہر سفارتی پیچز میں بھیجا کرتے تھے۔ سفیر کا میزبان ملک یا کوئی بھی اور ملک، جہاں سے یہ سفارتی بیگ ہو کر جاتے تھے، قانوناً انہیں نہیں کھول سکتے تھے۔ یہ بیگ صرف اس سفیر کی اپنے ملک کی وزارت خارجہ میں جا کر کھلتے تھے۔ چنانچہ اس طریقے سے جو بھی پیغام رسانی ہوتی تھی وہ خفیہ رہتی تھی۔ آج بھی سفارتی بیگز، جو ڈاک کے ذریعے جاتے ہیں، انہیں استثنیٰ حاصل ہے اور ان کی ایئرپورٹس پر چیکنگ نہیں کی جاتی۔

مزید :

بین الاقوامیسائنس اور ٹیکنالوجی



[ad_2]
Source link

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Back to top button